بسنت پنچمی پر پوجا بھی ہوگی اور جمعہ کی نماز بھی، بھوجشالہ معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
47
M.U.H
22/01/2026
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع بھوجشالہ تنازع سے متعلق بسنت پنچمی کے موقع پر پوجا ارچنا اور نماز پر پابندی کے معاملے میں جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھوجشالہ میں بسنت پنچمی کے دن پوجا بھی ہوگی اور جمعہ کی نماز بھی ادا کی جا سکے گی۔ حالانکہ، اس کے لیے وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔
بھوجشالہ احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے کا مطالبہ
ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے دائر عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 23 جنوری کو بسنت پنچمی کے دن بھوجشالہ احاطے میں مسلم برادری کو نماز ادا کرنے سے روکا جائے اور ہندو برادری کو ماں سرسوتی کی پوجا کی اجازت دی جائے۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ بسنت پنچمی ہندو عقیدے کے لحاظ سے ایک خاص دن ہے اور اس موقع پر پورے احاطے میں پوجا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
کسی ایک برادری کو مکمل طور پر روکنا مناسب نہیں
سماعت کے دوران مسجد کمیٹی کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ سلمان خورشید نے دلیل دی کہ اس سے قبل بھی تین مرتبہ ایسا ہو چکا ہے جب بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑی اور دونوں برادریوں نے اپنے اپنے مذہبی فرائض ادا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی روایت کو دیکھتے ہوئے کسی ایک برادری کو مکمل طور پر روکنا مناسب نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے متوازن رویہ اختیار کرتے ہوئے دیا حکم
ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت کو بتایا کہ بسنت پنچمی پر پوجا سورج نکلنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک جاری رہتی ہے اور یہ محض ایک محدود وقت کا پروگرام نہیں بلکہ پورے دن کا مذہبی انعقاد ہوتا ہے۔ ایسے میں پوجا کے دوران کسی اور سرگرمی سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ، سپریم کورٹ نے متوازن رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ انتظامی سطح پر ایسے انتظامات کیے جائیں تاکہ دونوں برادریاں اپنے اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکیں۔
بھوجشالہ احاطے کے اندر ہی نماز کی جگہ کی نشاندہی
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ سماج میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنا سب سے اہم ہے اور انتظامیہ کو اسی جذبے کے ساتھ انتظامات کرنے چاہئیں۔ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایم نٹراجن نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے بھوجشالہ احاطے کے اندر ہی ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کر لی ہے جہاں نماز ادا کی جا سکے گی، تاکہ پوجا اور نماز کے درمیان کسی قسم کا تصادم نہ ہو۔
بسنت پنچمی کے دن پوجا اور نماز دونوں کی اجازت
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم معاملے کی میرٹ پر کوئی رائے نہیں دے رہے ہیں۔ یہ جمعہ کی نماز اور کل (23 جنوری) بسنت پنچمی کی پوجا کا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دھار کی بھوجشالہ میں بسنت پنچمی کے دن پوجا اور نماز دونوں کی اجازت ہوگی۔
عدالت نے ہدایت دی کہ نماز دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان ادا کی جا سکے گی اور اس کے لیے مندر احاطے میں ہی الگ مقام مقرر کیا جائے گا۔ نماز ادا کرنے والوں کے لیے خصوصی پاس کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ مسلم برادری نماز میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد بتائے گی اور ان کے لیے اسی کمپلیکس میں الگ جگہ کے ساتھ علیحدہ داخلہ اور اخراج کا راستہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہندو برادری کو بھی پوجا کے لیے الگ مقام اور داخلہ و اخراج کے راستے دیے جا سکتے ہیں۔
بسنت پنچمی کی پوجا کے لیے بھی الگ سے جگہ مقرر کی جائے گی، جبکہ پوجا کے لیے کسی قسم کی وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون و نظم اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنائے۔