ہند۔ چین فوجیں پیچھے ہٹ گئیں، ایل اے سی معاہدے کا اثر
365
M.U.H
25/10/2024
نئی دہلی :ہندوستان اور چین دونوں کی فوجیں پیچھے ہٹنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایل اے سی معاہدے کے بعد یہ فیصلہ دونوں ممالک نے کیا ہے۔ ڈیمچوک اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقوں سے ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کی خبر ہے۔ تنازعہ کے دوران سب سے زیادہ تناؤ ان علاقوں کے حوالے سے تھا، اس لیے یہاں سے فوجوں کی پسپائی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جانکاری کے لیے بتاتے چلیں کہ چند روز قبل بھارت اور چین کے درمیان کئی معاملات پر معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ہی، پانچ سال بعد، برکس سربراہی اجلاس میں پی ایم مودی اور شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ ملاقات دیکھنے میں آئی۔ یہ الگ بات ہے کہ چین نے اپنے جاری کردہ بیان میں سرحدی تنازع کا کوئی ذکر نہیں کیا، پٹرولنگ پوائنٹس کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔ دوسری جانب پی ایم مودی نے سرحدی معاہدے کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت پر زور دیا۔
دوسری جانب چین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں فریق کچھ اہم معاملات پر حل تلاش کرنے میں کامیاب رہے ہیں، چین اسے مثبت انداز میں لیتا ہے۔ اب اگلے مرحلے میں چین بھارت کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور اپنے حل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے گا۔