اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان نے '' اسلاموفوبیا'' سے متعلق قرار داد پر ووٹنگ سے بنائی دوری
291
M.U.H
16/03/2024
جنیوا: ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی اور چین کے تعاون سے پیش س'اسلامو فوبیا' سے متعلق قرارداد کے مسودے سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مذہب کی بجائے ہندو، بدھ، سکھ اور تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والے دیگر مذاہب کے خلاف "مذہبی خوف" کی جامعیت کوبھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس دوران جب پاکستان کے ایلچی نے ایودھیا میں واقع رام مندر کا ذکر کیا تو ہندوستان نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ جمعہ کو 193 رکنی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی 'اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے اقدامات' کو منظوری دی۔ قرارداد کے حق میں 115 ممالک نے ووٹ دیا، کسی نے مخالفت نہیں کی اور ہندوستان ، برازیل، فرانس، جرمنی، اٹلی، یوکرین اور برطانیہ سمیت 44 ممالک نے ووٹ نہیں دیا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل مندوب روچیرا کمبوج نے یہودی مخالف ،'کرسٹو فوبیا' اور اسلامو فوبیا (اسلام کے خلاف تعصب)سے پریرت تمام کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کا 'فوبیا' (تعصب) ابراہیمی مذاہب سے آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے قرار داد کے بارے میں ہندوستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واضح شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کئی دہائیوں سے غیر ابراہیمی مذاہب کے پیروکار بھی مذہبی تعصب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے خاص طور پر ہندو مخالف، بدھ مت مخالف اور سکھ مخالف مذہبی تعصب کی عصری شکلیں پیدا ہوئی ہیں۔ کمبوج نے کہا کہ اسلامو فوبیا کا مسئلہ بلاشبہ اہم ہے، لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دوسرے مذاہب کو بھی امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا ہے۔ دوسرے مذاہب کو درپیش اسی طرح کے چیلنجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل مختص کرنا نادانستہ طور پر بائیکاٹ اور عدم مساوات کے احساس کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں 1.2 بلین سے زیادہ پیروکاروں والے ہندو مذہب، 535 ملین سے زیادہ پیروکاروں والا بدھ مت، اور 30 ملین سے زیادہ پیروکاروں والا سکھ مذہب، سبھی مذہبی تعصب کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ایک کے بجائے تمام مذاہب کے خلاف مذہبی تعصب کے وسیع ہونے کو تسلیم کریں۔ اس دوران پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے ایودھیا میں رام مندر کی پران پرتشٹھا تقریب اور شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا بھی ذکر کیا۔ اس پر اعتراض کرتے ہوئے کمبوج نے کہا کہ میرے ملک سے متعلق معاملات پر اس (پاکستانی ) وفد کے محدود اور گمراہ کن نظریے کا سامنا کرنا واقعی بدقسمتی کی بات ہے۔ وفد نے خاص کر ایسے وقت پر اقوام متحدہ میں ذکر چھیڑا ہے ، جب ایسے معاملے پر غور کر رہی ہے ، جس میں تمام ممبران سے علمی ، گہرائی اور عالمی تناظر پیش کرنے کی امید کی جارہی ہے ۔شاید وفد کو اس میں مہارت حاصل نہیں ہے ۔