غزہ میں "حماس" کے حکومتی انفارمیشن سیکرٹری "اسماعیل الثوابہ" نے کہا کہ اس علاقے میں ایک ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جب کہ انسانی امداد میں کمی کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا ہے۔ اسماعیل الثوابہ نے خبر دی کہ اسرائیل شمالی غزہ میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کو زمین بوس کر رہا ہے اور مہاجرین کو اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی جمع پونجی اسرائیلی فوجیوں کے حوالے کریں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار المیادین سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے ہسپتال مزید زخمیوں کا علاج نہیں کر سکتے۔ ہم مصر اور دیگر ہمسایہ عرب ممالک سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ہسپتالوں میں ہمارے زخمیوں کا علاج کریں۔ واضح رہے کہ صیہونی رژیم نے غزہ پر جنگ کے آغاز سے ہی وہاں کے ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے ظلم و بربریت کی داستان "العمدانی" ہسپتال میں رقم کی جہاں اس رژیم کے ہاتھوں ایک ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے ہسپتالوں پر حملہ کرنے کے بعد ان کا مکمل محاصرہ کر لیا تھا۔ جبالیہ کیمپ میں واقع "العودہ" ہسپتال 5 دسمبر سے صیہونی محاصرے میں ہے، جس کے بارے میں غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہسپتال میں نہ پانی جا سکتا ہے نہ کھانا اور نہ ہی ادویات، جب کہ اسہسپتال میں داخل 240 مریض قیدیوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے العودہ ہسپتال کو اپنا ہیڈکوارٹر بنا دیا ہے۔ آخر میں اسماعیل الثوابہ نے کہا کہ ہم رفع کراسنگ اور دیگر گزرگاہوں کے کُھلنے کے منتظر ہیں تا کہ غزہ کے رہائیشیوں کو نجات دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں علاج کا شعبہ اب بھی اسرائیلی حملوں کی زد پہ ہے۔