مودی نے ووٹروں سے کانگریس کو 100 سال تک اقتدار سے محروم کرنے کی اپیل کی
262
m.u.h
09/11/2023
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر غریبی اور ترقی کو لے کر نشانہ بنایا اور مدھیہ پردیش کے ووٹروں سے کانگریس کو کم از کم 100 سال تک اقتدار سے محروم رکھنے کی اپیل کی۔ اجودھیا میں بھگوان رام کے مندر کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کانگریس اس کے بھی خلاف ہے۔
جمعرات کو مدھیہ پردیش کے چھتر پور میں اپنی دوسری انتخابی ریلی میں مودی نے کانگریس کی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "اجودھیا میں بھگوان رام کا مندر بننے سے روکنے کے لیے کانگریس نے بھگوان رام کوتصوراتی بتا دیا تھا۔ کانگریس نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے کی بھی مخالفت کی تھی۔ کانگریس نے ملک کی پہلی قبائلی خاتون صدر کی بھی مخالفت کی تھی۔ کانگریس ہندوستانی زبانوں میں میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کی بھی مخالفت کرتی ہے۔
مودی نے کہا، "کانگریس حکومت کی توجہ پوری طرح سے دہلی پر تھی، منصوبے ، اہم غیر ملکی لیڈروں کے دورے اور بڑے پروگرام سبھی دارالحکومت میں مرکوز تھے۔ کانگریس لیڈر اپنے غیر ملکی دوستوں کو ہندوستان کی غریبی دکھانے کے لیے لاتے تھے۔" انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کانگریسی لیڈر اپنے غیر ملکی دوستوں کو ہندوستان کی غربت دکھاتے تھے۔ ان کانگریسی لیڈروں کے لیے جو چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے، غربت سیاحت تھی۔
وزیر اعظم نے کانگریس کے اقتدار کا موازنہ ریورس گیئر والی گاڑی سے کیا، جو ملک کو مو¿ثر طریقے سے پیچھے لے جاتی ہے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کی فلاح و بہبود پر اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایسی پالیسیاں ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گاڑیوں میں ریورس گیئر ہوتا ہے جو انہیں پیچھے کی طرف لے جاتا ہے۔ کانگریس ریورس گیئر میں ماہر ہے۔ کانگریس مدھیہ پردیش کی ترقی کے سفر کو پلٹ دے گی۔ مودی نے کہا کہ جب کانگریس سورج اور چاند لانے کا وعدہ کرے تو سمجھ لیں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کانگریس جب بھی بڑے وعدے کرتی ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ میٹھا زہر دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں ایسا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ مودی نے مختلف ریاستوں میں ادھورے وعدوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کانگریس کے بڑے وعدوں کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے ان معاملوں پر روشنی ڈالی جہاں کانگریس نے مفت بجلی کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں قیمتوں میں اضافہ کیا اور بجلی کی شدید کٹوتی شروع کر دی ، جس سے معاشی چیلنجز پیدا ہوئے اور ملازمتیں ختم چلی گئیں۔